ابنا: حسین امیر عبد اللہیان نے پیر کو ماسکو میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ شام میں دہشت گردوں اور تكفيريوں کی مالی اور اسلحہ جاتی مدد کرنے والوں کو یہ حقیقت نہیں بھولني چاہئے کہ القاعدہ، افغانستان میں پروان چڑھا تھا لیکن گیارہ ستمبر کا واقعہ وہاں سے ہزاروں کلو میٹر دور نیویارک میں ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جو کچھ علاقائی ممالک میں ہوا ہے اگر اس سے دہشت گرد اور تكفيري مضبوط ہوئے تو اس سے علاقے بلکہ پوری دنیا کی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔انہوں نے بحران شام کے حل کے لئے تمام ملکوں کی شرکت کی ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ اس بحران کے حل کے لئے علاقائی سطح پر مذاکرات کی ضرورت ہے۔ایران کے نائب وزیر خارجہ نے قفقاز کی سیکورٹی کو یقینی بنانے کے لئے ایران، روس اور ترکی پر مبنی ایک علاقائی بلاک کی تشکیل کے امکانات کے بارے میں کہا کہ موجودہ وقت میں ایران علاقے کا سب سے پر امن ملک ہے جبکہ ایران کے ہمسایہ ممالک خاص طور پر عراق اور افغانستان میں بہت زیادہ نا امنی ہے۔ واضح رہے کہ ایران کے نائب وزیر خارجہ حسین امیر عبد اللہیان، روسی حکام سے ملاقات کے لئے ماسکو کے دورے پر ہیں۔......./169
3 مارچ 2014 - 20:30
News ID: 511022
ایران کے وزیر نائب وزیر خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ دہشت گردی اور تكفيريوں کی حمایت کا نتیجہ علاقے اور دنیا کے ہر ملک میں گیارہ ستمبر کے دھماکوں سے بھی بڑے واقعات کے طور پر سامنے آ سکتا ہے .